توجہ  کا  نذرانہ

Screenshot 2015-05-30 20.41.56

Originally appeared on Saach.tv  on 25 May 2015

ایک عذاب ہے  کے ٹلتا  ہی نہیں ایک آزمائش ہے کہ ڈھلتی نہیں

 سر کو دھوپ سے  بچاتے ہیں تو  راہ کے کانٹے پاؤں میں  چبھنے لگتے ہیں

 نہ جان محفوظ ہے نہ   عزت ،

 کب کوئی  بھولی بھٹکی گولی  آے اور اچھے بھلے آدمی کوایک  گمنام  لاش میں بدل دے کوئی پتا نہیں،

اخبار ہو یا  ٹی وی  ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہے،

کسی کو مہنگائی کی فکر ہے اور کوئی آنے والے بجٹ  کی راہ تک رہا ہے کے شائد کچھ بات بن جائے،

 قتل و  غارت گری کی  ایسی ایسی دل خراش خبریں ہیں کے روح کانپ جاتی ہے،

پشاور میں سو سے زیادہ بچو ں کو یوں ذبح کر دیا جیسے انسانوں کے نہیں موزی جانوروں کے بچے تھے،

نہتی سبین محمود  ایسے سفاکی سے مار دی  گئی کہ گویا کوئی بکری تھی اور    چالیس   اسماعیلی کلمہ گو  یوںمسل دیے گئے کہ  شائد   مچھر تھے.

ہمیں کیا  غرض کے امن کس چڑیا کا نام ہے اور تہذیب اور شرافت کس کھیت کی مولی ہیں.

 بے حسی کی یہ حالت ہے کے پانچ دس  بندوں کے مرنے کی خبر تو خبر ہے ہی نہیں، کوئی  پچاس سو گھر اجاڑیں جائیں تو  پیشانی پر بل نمودار ہوتے ہیں،

حرام خوری کی ایسی لت پڑی ہے کے اب   گدھوں کو بھی نہیں چھوڑا ،پہلے ان مظلوموں کی کھال  اتارو اور پھرٹکڑے ٹکڑے کر کے بازاروں میں گوشت بیچ دو. پیٹ کا جہنم جو بھرنا ہے حرام حلال سے کیا فرق پڑتا  ہے.

 اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہےکہ خود تو جاہل  مطلق تھے ہی ابّ اپنی  جہالت جعلی ڈگریوں کی صورت میں باہر بھی بیچنا شروع کر دی.

  کس کس کو   رو ےکوئی، دین کے  ٹھیکداروں کا  یہ حال ہے کے کسی اک جگہ پر  اکھٹے  ہو کرنماز بھی  نہیں  پڑھ سکتے اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کرنی ہو تو   بولتے بولتے   منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے،

 دوری طرف لبرل فاشسٹوں کا یہ حال ہے کے کسی کے مرنے پر    فاتحہ   کا خیال آے نہ آے   موم بتیاں جلا کر اپنی کور چشمی کا  اندیھرا  ضرور دور کرتے ہیں.

سیاست دانوں کو تو رہنے ہی  دیجئے کے سفید  کاغذ کو کالا کرنے سے کیا فائدہ

ذرا ان نام نہاد میڈیا والوں کا حال دیکھیے جو  ریٹنگ کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل گئے  ہیں کہ جیسے آسمان کو ہی چیر ڈالیں   گے.   بچپن  میں ایک  مداری  ڈگڈگی لے کرگلی میں آیا کرتا تھا اور بندر کو ناچتا دیکھ کر انجانی سی  خوشی ہوتی تھی.اب اسی سے ملتی جلتی کفیت    ٹی وی پر ٹاک شو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے.

لیکن اس سب میں قصور نہ تو حکومت کا ہے اور نہ سیاست دانو ں کا.غلطی نہ میڈیا کی ہے اور نہ بیورو  کریسی کی یہ بیڑا غرق اس عوام کا  ہوا ہے.

    بجلی چوری، ملاوٹ، رشوت، سفارش، جھوٹ، دھوکہ،گندگی میں لتھڑے ہوۓ لوگوں کے ساتھ یہ سب ہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے.

اپنے گھر کے سامنے کوڑا پھنکنے والا اگر مہنگائی کا رونا روتا ہے تو ٹھیک ہے    دھاریں مار مار کر رونے دو،

 اگر بجلی چوری کرنے والے کو  پٹرول نہیں ملتا تو بہت اچھا ہے،

اگر دفتر میں  رشوت دینے والے کو پولیس والے کسی اور وجہ سے تنگ کرتے ہیں تو اور بھی اچھا ہے. دنیا مکافات عمل ہے اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو

  What goes around , comes around

مگر مسلہ یہ ہے کے  ان دو نمبر جوگھاٹیوں، مسخروں، اور چوروں کی    تعداد بہت کم ہے اور باقی لوگ ان کے ہاتھوں ذہنی طور  پر یرغمال ہیں.  اس سب کا  حل کیا ہے

 بڑا سیدھا  اور آسان  حل ہے،  اپنے اآپ کو ٹھیک کیجئے اور ان کو ان کے حال پر  چھوڑ دیں.

اگر کوئی    مولوی نفرت کا   پرچار کرتا ہے تو مسجد تبدیل کر لیجئے  بلکے اپنے ساتھ دو چار اور کو بھی ملا لیجئے، اگر کوئی  ہمسایہ گندگی  پھیلاتا ہے تو اس کا  بائیکاٹ کر دیجئے اور اگر کوئی رشوت  خور آپ کا دوست  نکل اے تو  اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیجئے.

تنہائی، rejection، نظر انداز کر دینا بہت بڑی سزا ہے اور کوئی بھی سیاستدان، صحافی، مولوی،لبرل ، جو اپنے   تیئں بہت بڑا ہو وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا کے اسے ignore کر دیا جائے.

 جہالت، ظلم، غرور، جرم، دولت،رتبہ ، اپنے ساتھ انا اور خود پسندگی کے بہت بڑے بڑے بت  لاتی   ہے اور  ان بتوں کو توجہ کا نذرانہ نہ ملے تو یہ اپنے  بھاری بھرکم وجود کے ساتھ زمین پر آن گرتے ہیں.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s