صدر پیوٹن کی زندگی کے 7 دلچسپ پہلو

گمنامی سے عروج کا سفر

روس کے موجودہ صدر پیوٹن 7 اکتوبر 1952 کو ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1975 میں انہوں نے لینن گراڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ اگلے 16 سال تک وہ سابق روس کے خفیہ ادارے کے جی بی میں کام کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے سابق مشرقی جرمنی میں کام کیا اور سیاست میں آنے کے لیے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ 8 سال بعد 1999 میں پیوٹن نے پہلی بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔

طویل اقتدار

روس کے آئین میں موجود مختلف شقوں کا فائدہ اٹھا کر صدر پیوٹن اپنے اقتدار کو طوالت دینے میں خوب کامیاب رہے ہیں۔ وہ پہلے 2000 سے 2008 تک روس کے صدر رہے۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص لگاتار دو دفعہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا، تاہم لگاتار نہ ہونے کی صورت میں پھر سے صدر بنا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس کا فائدہ اٹھا کر پیوٹن 2008 سے 2012 تک وزیرِ اعظم منتخب ہوئے، اور پھر 2012 میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہو گئے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ 2018 تک پیوٹن ہی روس کے صدر رہیں گے اور یوں بطور صدر اور وزیراعظم ان کے اقتدار کا کل دورانیہ 20 سال کے قریب بن جائے گا۔

جوڈو کراٹے اور کھیلوں میں دلچسپی

جوڈو کراٹے کے ماہر صدر پیوٹن نے 18 سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کی اور 1974 میں وہ اپنی یونیورسٹی کے جوڈو چیمپیئن بھی رہے۔ صدر پیوٹن کے دیگر مشاغل میں تیراکی، گھڑسواری، غوطہ خوری، شکار، ہوا بازی، کار ریسنگ اور گلائڈنگ وغیرہ شامل ہیں۔ پیوٹن کی زندگی کے اس پہلو کو مغربی ذرائع ابلاغ اکثر ہدف تنقید بناتے ہیں تاہم اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ صدر پیوٹن کی زندگی کا یہ پہلو انہیں بہت سے حکمرانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

کامک سیریز سپر پیوٹن

روسی صدر پیوٹن کی کرشماتی شخصیت کے گرد گھومتی ایک آن لائن کامک سیریز “سپر پیوٹن” کے نام سے ہے۔ امریکی کردار “سپر مین” سے مبینہ طور متاثر اس کامک سیریز میں پیوٹن کبھی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور کبھی اپنی جوڈو کراٹے کی مہارت آزماتے اور بہادری کے جوہر دکھاتے نظرآتے ہیں۔

پالتو جانوروں کا شوق

صدر پیوٹن کو جانوروں سے خاصہ لگاؤ ہے تاہم اس ضمن میں 2007 میں روس کے دورے کے دوران انہوں نے متنازع طور پر جرمنی کی خاتون وائس چانسلرانجیلا مرکل کو اپنے کتے “کونی” کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں جرمن چانسلر نے پیوٹن کی اس حرکت کو مردانگی کے اظہار کی کوشش کہا، اور اسے ان کی کمزوری گردانتے ہوئے کہا کہ روس کے پاس نہ کامیاب سیاست ہے اور نہ معیشت، بلکہ صرف یہی کچھ ہے۔

2004 میں”کونی کہانیاں” کے نام سے روس کے ایک بڑے ناشر نے بچوں کے لیے کہانیوں کا ایک مجموعہ بھی شائع کیا۔

ذاتی زندگی

صدر پیوٹن کی ذاتی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 2013 میں ان کی اہلیہ سے علیحدگی ہو گئی۔ ان کی دوبیٹیاں ہیں، اور وہ کس ملک میں ہیں، اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

نام کا کاروباری استعمال

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ صدر پیوٹن کی شخصیت سے متاثر ہو کر ان کے نام کا استعمال کاروباری مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ 2003 میں “پیوتنکا” کے نام سے شراب کا ایک برانڈ متعارف کروایا گیا۔

2006 میں اس کو اپنی کیٹیگری میں “پراڈکٹ آف دی ایئر” کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ صدر پیوٹن خود نہ تو سگریٹ پیتے ہیں اور نہ شراب سے کچھ خاص شغف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے نام کا استعمال اشیا خورد و نوش اور ٹی شرٹس وغیرہ کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

صدر پیوٹن کی زندگی کے کچھ اور پہلوؤں میں ان کی پی ایچ ڈی ڈگری کا تنازع، اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال سے مکمل پرہیز شامل ہے۔ مختلف مغربی ذرائع کے مطابق ان کی دولت کا تخمینہ 40 ارب ڈالر ہے۔

Advertisements

صدر اوباما سے سیکھنے کی 5 عادات

New Microsoft PowerPoint Presentation

First published here in Dawn News on 17 Jun 2015.

11407009_881655008576198_5121262229437970745_n

معمولی نظر آنے والی سادہ سی عادات ہی ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو ایک منفرد پہچان دی ہے۔ — رائٹرز

معمولی نظر آنے والی سادہ سی عادات ہی ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو ایک منفرد پہچان دی ہے۔ — رائٹرز

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں، اور اس کی شخصیت کے ہر پہلو کو بڑی گہرائی سے پرکھا جاتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر اوباما، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے 44 ویں اور پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہیں۔ صدر اوباما کی شخصیت میں ذرائع ابلاغ کی غیر معمولی دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم ان کی پانچ عادات عام لوگوں کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہیں۔

کتب بینی

مصروفیت بھری زندگی میں سے مطالعے کے لیے وقت نکالنا یقیناً ایک مشکل کام ہے، تاہم موجودہ امریکی صدر اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود مختلف کتابیں پڑھنے کا وقت ضرور نکل لیتے ہیں۔

اوباما کا یہ شوق زمانہ طالب علمی سے رہا ہے، اور ان کے علمی رجحان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے کا ایڈیٹر بھی مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے صدر اوباما اس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئے، جب ان کی دوران خریداری لی گئی تصویر میں کتابیں بھی شامل تھیں۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ اب بھی ہفتے میں ایک کتاب ضرور پڑھتے ہیں۔ اتنے اہم ملک کا اتنا مصروف صدر کتابیں پڑھنے کے لیے وقت نکالے، نہ صرف حیرانی کی بات ہے، بلکہ اس میں ان تمام لوگوں کے لیے سبق ہے جو مصروفیت کا بہانہ کر کے کتب بینی سے دور بھاگتے ہیں۔ صدر اوباما کی اس عادت کا موازانہ اپنے رہنماؤں سے کرنے کا خیال بھی فضول ہے۔

جدوجہد

موجودہ امریکی صدر کی زندگی سے ایک اور اہم نتیجہ یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے، اور وہ ہے محنت، قابلیت، اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنے مقصد میں کامیابی کا حصول۔ ایک افریقی باپ اور امریکی ماں کی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ صدر اوباما کا بچپن بہت خوشگوار نہ تھا۔ ان کے والدین کے درمیان طلاق واقع ہوگئی، اور کچھ عرصہ بعد ان کی والدہ نے دوسری شادی کرلی۔ کچھ عرصہ اپنے سوتیلے والد کے ساتھ انڈونیشیا میں گزارنے کے بعد ان کو واپس امریکا بھیج دیا گیا۔

یہاں پر بھی مشکلات کا سامنے کرنے کے باوجود اوباما نے حوصلہ نہ ہارا اور اپنی تعلیم کا سلسلہ پہلے کیلی فورنیا اور پھر شکاگو میں جاری رکھا۔ بعد ازاں اپنی لیاقت کے سبب ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ صدارتی نامزدگی کے لیے ہلری کلنٹن جیسی مضبوط امیدوار کو شکست دی، اور ان تھک محنت اور جدوجہد کے سبب ایک سیاہ فام امریکی نے اپنے ملک کے صدر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

فیملی

صدر اوباما کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی اپنے خاندان کے حوالے سے شہرت ہے۔ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار شوہر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں، بلکہ دو بیٹیوں کے باپ کی حیثیت سے بھی ان کی اچھی شہرت ہے۔ اپنی بیٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے بھی وہ وقت نکالنا نہیں بھولتے۔ اپنی بڑی بیٹی کے یونیورسٹی میں داخلے کے سلسلے میں بھی خاطر خواہ دوڑ دھوپ کی۔

ورزش

6 فٹ اور 1 انچ قد کے ساتھ ساتھ جو چیز امریکی صدر کو ممتاز بناتی ہے، وہ ہے ان کی جسمانی فٹنس۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کو کافی اجاگر کیا ہے، کہ گزشتہ سات آٹھ سالوں میں صدر اوباما نے اپنی جسمانی فٹنس کا خوب خیال رکھا، اور پہلی دفعہ صدر بننے سے لے کر جب ان کا وزن تقریباً 88 کلو تھا، اب تک سات سال گزارنے کے بعد بھی تقریباً اتنا ہی ہے۔ باسکٹ بال کے کھیل میں دلچسپی رکھنے والے صدر اوباما کی اس فٹنس کا ایک راز غالباً یہ بھی ہے کہ وہ روزانہ تقریباً پانچ میل دوڑ لگاتے ہیں۔

خوش اخلاقی

موجودہ امریکی صدر کی شخصیت کا ایک اور قابل غور پہلو ان کی خوش اخلاقی ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سربراہانِ مملکت نہ صرف سنجیدہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں، بلکہ شاذ و نادر ہی خوش گوار موڈ میں نظر آتے ہیں، لیکن امریکی صدر اوباما کے ضمن میں ایسا نہیں۔

نہ صرف یہ کہ وہ اکثر ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں، بلکہ جہاں بھی ممکن ہو سکے لوگوں کو ہنسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ امریکی صدر کے برعکس ہمارے لیڈر نہ صرف یہ کہ ظاہری طور پر سنجیدہ نظر آتے ہیں، بلکہ لوگوں کو اپنی حسِ مزاح سے متاثر کرنے کا فن بھی تقریباً ناپید ہے۔ قوم کے رہنما اپنے لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں، اور اگر ان کو اپنے لیڈروں کی شکل پر ہی امید، خوشی، اور اعتماد نظر نہ آ سکے، تو پھر ان کا اپنا بھی مایوس، فکرمند، اور پریشان نظر آنا کچھ اچھنبے کی بات نہیں۔`

اوپر دیے گئے پانچ اوصاف نہ صرف یہ کہ بنیادی نوعیت کے ہیں، بلکہ ان کا تعلق اعلیٰ انسانی اقدار سے بھی ہے اور ان کو اپنانا بھی ہرگز مشکل نہیں۔ یہ وہ معمولی نظر آنے والی سادہ سی عادات ہیں، جو کسی بھی شخص کو بالکل منفرد بنا سکتی ہیں، اور ان کو اپنا کر آپ نہ صرف اپنی زندگی میں، بلکہ اپنے کام میں بھی بہتری محسوس کر سکتے ہیں۔
_____________________________________________________________________________________________

لکھاری اچھے بھلے کمپیوٹر انجینیئر تھے، پھر نجانے کیا سوجھی کہ لکھنا شروع کردیا، وہ بھی اردو میں۔ کوئی اور پڑھے نہ پڑھے، یہ اپنی تحاریر ضرور پڑھتے ہیں۔ رابطہ کرنا ہو یا نہ کرنا ہو، ای میل ایڈریس یہی ہے:ibn.e.azhar@gmail.com

اس کے علاوہ ٹوئٹر پر بھی پیچھا کیا جا سکتا ہے: ibneazhar@

کوئی اور نہیں صرف ’ہم‘ بُرے ہیں!

Screenshot 2015-06-08 00.12.14

First Published in Express News on 22 May 2015.

359115-positive-1432203754-617-640x480

ایک عذاب ہے کہ ٹلتا ہی نہیں، ایک آزمائش ہے کہ ڈھلتی نہیں، سر کو دھوپ سے  بچاتے ہیں تو راہ کے کانٹے پاؤں میں چبھنے لگتے ہیں۔

نہ جان محفوظ ہے نہ عزت، کب کوئی بھولی بھٹکی گولی آئے اور اچھے بھلے کوایک گمنام  لاش میں بدل دے۔ کوئی پتا نہیں، اخبار ہو یا  ٹی وی، ہر طرف ایک ہنگامہ برپا ہے، کسی کو مہنگائی کی فکر ہے اور کوئی آنے والے بجٹ کی راہ تک رہا ہے کے شاید کچھ بات بن جائے، قتل و غارت گری کی ایسی ایسی دل خراش خبریں ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔

پشاور میں سو سے زیادہ بچوں کو یوں قتل کردیا جیسے انسانوں کے نہیں موزی جانوروں کے بچے تھے، نہتی سبین محمود ایسے سفاکی سے قتل کردی گئی اور 46 اسماعیلی یوں مسل دیے گئے کہ  شائد مچھر تھے۔ لیکن ہمیں کیا غرض، کہ بے حسی کی یہ حالت ہے کے اب 5 یا 10 بندوں کے مرنے کی خبر تو ہمارے نذدیک خبر ہے ہی نہیں۔

کوئی 100، 50 گھر اُجڑیں تو کہیں جاکر پیشانی شریف پر بل نمودار ہوتے ہیں، حرام خوری کی ایسی لت پڑی ہے کے اب گدھوں کو بھی نہیں چھوڑا، پہلے ان مظلوموں کی کھال اتارو اور پھر ٹکڑے ٹکڑے کرکے بازاروں میں گوشت بیچ دو۔ پیٹ کا جہنم جو بھرنا ہے حرام حلال سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہےکہ خود توجاہل مطلق تھے ہی اب اپنی جہالت جعلی ڈگریوں کی صورت میں باہر بھی بیچنا شروع کردی۔

اب بھلا انسان کس کس کو روئے، کوئی، دین کے  ٹھیکداروں کا یہ حال ہے کہ کسی ایک جگہ اکھٹے  ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کرنی ہو تو   بولتے بولتے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی ہے، دوسری طرف لبرل فاشسٹوں کا یہ حال ہے کے کسی کے مرنے پر فاتحہ کا خیال آئے نہ آئے موم بتیاں جلا کر اپنی کور چشمی کا اندیھرا  ضرور دور کرتے ہیں۔ سیاست دانوں کو تو رہنے ہی دیجئے کے سفید کاغذ کو کالا کرنے سے کیا فائدہ۔۔۔ اب ذرا ان نام نہاد میڈیا والوں کا حال دیکھیے جو ریٹنگ کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ جیسے آسمان کو ہی چیر ڈالیں گے۔ بچپن میں ایک مداری ڈگڈگی لے کر گلی میں آیا کرتا تھا اور بندر کو ناچتا دیکھ کر انجانی سی خوشی ہوتی تھی۔ اب اسی سے ملتی جلتی کیفیت ٹی وی پر ٹاک شو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔

لیکن اِس سب میں قصور نہ تو حکومت کا ہے اور نہ سیاست دانوں کا۔ غلطی نہ میڈیا کی ہے اور نہ بیورو کریسی کی۔ یہ بیڑا غرق اس عوام کا کیا ہوا ہے۔ بجلی چوری، ملاوٹ، رشوت، سفارش، جھوٹ، دھوکہ، گندگی میں لتھڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ یہی سب ہونا چاہیے جو ہورہا ہے۔ اپنے گھر کے سامنے کوڑا پھنکنے والا اگر مہنگائی کا رونا روتا ہے تو ٹھیک ہے دھاریں مار مار کر رونے دو، اگر بجلی چوری کرنے والے کو  پٹرول نہیں ملتا تو بہت اچھا ہے، اگر دفتر میں  رشوت دینے والے کو پولیس والے کسی اور وجہ سے تنگ کرتے ہیں تو اور بھی اچھا ہے۔ دنیا مکافات عمل ہے، اِس ہاتھ دو اور اُس ہاتھ لو۔ مگر مسئلہ یہ ہے کے ان دو نمبر مسخروں اور چوروں کی تعداد بہت کم ہے اور باقی لوگ ان کے ہاتھوں ذہنی طور پر یرغمال ہیں۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اِن مسائل کا حل کیا ہے؟ بڑا سیدھا اور آسان حل ہے، اپنے آپ کو ٹھیک کیجئے۔ اگر کوئی مولوی نفرت کا پرچار کرتا ہے تو مسجد تبدیل کرلیجئے، بلکہ اپنے ساتھ دو چار اور کو بھی ملا لیجئے، اگر کوئی  ہمسایہ گندگی  پھیلاتا ہے تو اس کا بائیکاٹ کر دیجئے اور اگر کوئی رشوت خور آپ کا دوست نکل آئے تو اُس سے کنارہ کشی اختیار کر لیجئے۔ تنہائی، نظرانداز کردینا بہت بڑی سزا ہے اور کوئی بھی سیاستدان، صحافی، مولوی، لبرل، افسر، جو اپنے تیئں بہت بڑا ہو وہ اِس بات کو برداشت نہیں کرسکتا کہ اُسے نظرانداز کردیا جائے۔

جہالت، ظلم، غرور، جرم، دولت،رتبہ، اپنے ساتھ انا اور خود پسندگی کے بہت بڑے بڑے بت  لاتی ہے اور ان بتوں کو توجہ کا نزرانہ نہ ملے تو یہ اپنے بھاری بھرکم وجود کے ساتھ زمین پر آن گرتے ہیں۔

رقص موت کا

Screenshot 2015-06-08 00.12.14

First Published here in Express News on 7-Jun 2015

11257863_10153467601635528_3127119279937399618_n

انیسویں صدی کے وسط میں ایک غریب یونانی عطر فروش کے ہاں پیدا ہونے والے باسل ظاہروف کی زندگی تضادات کا عجیب مجموعہ تھی۔ اس کا غربت کی گہرائی سے امارت کی اونچائی کا سفر کسی دیومالائی داستان سے کم نہیں۔ اس نے اسلحے کے ایک معمولی  آڑھتی کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گیا۔ ظاہروف کا یہ سفر چالاکی، عیاری اور مکاری سے عبارت ہے۔ وہ ایک خدا ترس آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا اور ایک ایسے عاشق کے طور پر بھی جس نے 30 سال کے طویل انتظار کے بعد اپنی محبوبہ سے شادی کی۔ ظاهروف کا شمار اپنے وقت کے امیر ترین آدمیوں میں ہوتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ’’موت کا  تاجر‘‘ اور ’’یورپ کا پراسرار آدمی‘‘ کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

ہم ظاہروف کو تاریخ کے سفاک اور خود غرض ترین انسانوں میں بھی شامل کرسکتے ہیں، جس نے اپنے اسلحے کے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے جرمنی، برطانیہ، خلافت عثمانیہ اور روس سمیت کئی ممالک کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ جنگ عظیم اول کے دوران اس نے اتحادی افواج کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی جس کے صلے میں اسے فرانس اور برطانیہ کے اعلی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ظاهروف کی شخصیت اس قدر متنازع اور پُر اسرار ہے کہ اُس کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم باتیں پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہیں، یہاں تک کہ اسکے اصل وطن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ وہ یونانی نسل سے تھا اور ترکی میں پیدا ہوا اور پیرس میں رہتا تھا، بعض لوگوں کے مطابق اس کو 14 زبانیں آتی تھیں اور مرنے سے پہلے اُس نے پچاس جلدوں پر مشتمل اپنی سوانح حیات اور دیگر دستاویزات نذر آتش کر دی تھیں۔

تاہم اس کی ذاتی زندگی کے متعلق حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اُس کے دفتری معمالات، خط و کتابت، تقریریں، میٹنگز وغیرہ کے متعلق کچھ علم نہیں لیکن اِس تمام پراسراریت کے باوجود اُس کی کاروباری کامیابیوں پر کسی کو کوئی شک نہیں۔ اسلحہ کی صنعت میں اس نے بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ بعض کے مطابق دنیا کی پہلے آٹومیٹک مشین گن اور آبدوز کی مارکیٹنگ میں اس کا بہت اہم کردار تھا، جس نے یقیناً اس کو بے حد مالی فائدہ پہنچایا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اُس نے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اک بینک اور اخبار بھی خرید لیا، اِس کے ساتھ ساتھ اس نے فلاحی کاموں پر بھی توجہ دی اور کئی یونیورسٹیوں کو بھی گرانٹ وغیرہ فرہم کی۔

ہم ظاہروف کی شخصیت سے ہزار اختلافات کرسکتے ہیں لیکن اُس نے کاروبار کا ایک ایسا سنہری اصول مرتب کیا جس پر آج بھی مانتے یا نہ مانتے ہوئے تمام  کاروباری لوگ کاربند ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اصول ڈیمانڈ اور سپلائی یعنی مانگ اور رسد سے متعلق ہے۔ کوئی بھی کاروبار عام طور پر کسی بھی چیز کی ضرورت اور مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ آپ کبھی بھی بریلی کے لوگوں ںکو بانس، سائبیریا کے رہاشیوں کو برف اور اتھوپیا کےباسیوں کو ہیٹر نہیں بیچ سکتے۔ ظاہروف نے اس اصول کو بدل دیا۔ اُس نے ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کے  فلسفے کو اپنایا۔ یعنی اگر کسی چیز کی مانگ نہیں ہے تو وہ مانگ پیدا کردو، کاروبار چل نکلے گا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اٹلی، ترکی، اور یونان کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے تھیں اور دونوں طرف کے سپاہی ظاہروف کے کارخانوں کی گولیاں اور اسلحہ استعمال کررہے تھے اور ظاہروف کی تجوریاں میں نوٹوں سے بھر رہیں تھی۔

ظاہروف کی موت کے تقریباً 80 برس بعد آج بھی موت کا یہ کاروبار اُسی آب وتاب سے جاری ہے۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کے ظاہروف کی جگہ امریکا اور یورپ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اور مرنے کے لیے لوگوں کی فراہمی کا بندوبست مسلمانوں اور افریقہ کے ممالک نے اپنے سر لے لیا ہے۔ لہذا اسلحے کا کاروبار انسانی المیے کے باوجود آج بھی سب سے منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے اور تہذیب یافتہ ممالک اپنی انسان دوستی کے تمام دعوؤں کے باجود خون کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔

ستم یہ ہے کہ کئی ترقی یافتہ ممالک اسلحے کے کاروبار میں ظاہروف کے دیے ہوۓ ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں اور دنیا میں انتشار کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات طے ہے کہ خواہ کتنی ہی تنظیمیں کیوں نہ بنالی جائیں اور کتنے ہی امن  معاہدات کیوں نہ کر لئے جائیں، جب تک اسلحے کے کاروبار میں ظاہروف کا دیا ہوا ’’کریٹ دی ڈیمانڈ‘‘ کا فلسفہ حاوی رہے گا، عراق سے لے کر فلسطین اور افغانستان سے لے کر یوکرائن تک موت کا یہ رقص جاری ہے اور جاری رہے گا۔

جرم بولتا ہے

Screenshot 2015-05-30 12.21.00

Originally published in Pak Tea House on 30 May 2015.

axact

جرم بولتا ہے اوراس کی آواز چاہے کتنی خفیف کیوں نہ ہو، اگر قانون اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرہ نہیں ہے تو یہ آواز سن لیتا ہے. جرم اپنی لمبی ٹانگوں سے کتنی ہی قلانچیں کیوں نا بھر رہا ہو قانون کے لمبے ہاتھ اس تک پہنچ کر ہی رہتے ہیں……. اگر وہ پہنچنا چاہیں.سارا کھیل نیت ، ارادے اور اس پر بروقت عمل کرنے کا ہے.فی زمانہ جس معاشرے میں ہم ره رہے ہیں وہاں بجلی سے لے کر پانی اور نیک نیتی سے لے کر غیرت تک ہر چیز کی کمی ہے اگر کوئی چیز فروانی میسرہے تو وہ ہے لا قانونیت اور جرم.چھوٹے سے لے کر بڑے جرم تک میں اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ ہےاس کا نشان چھوڑ جانا. لہذا جرم تک قانون کا پہنچنا مجرم کی چالاکی سے زیادہ قانون کی ذہانت کا امتحاں ہوتا ہے.لیکن یہ تمام باتیں ان معاشروں کے لئے ہے جہاں قانون نام کی چڑیا کا وجود ہوتا ہے، ہمارے ہاں تو قانون بھی جنگل کا ہے اور قانون کے رکھوالے بھی وہی کے رہائشی.
حال ہی میں ایگزٹ کمپنی کے معاملے پر قانون نافذ کرنے والوں کی پھرتیاں دیکھ کر پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کے ہم پاکستان میں ہیں یا کسی یورپی ملک میں.جعلی ڈگریوں کے معاملے پر جس قدر سبکی پاکستان کی ہوئی ہے وہ تاریخ میں ایک مثال ہے.وہ تو بھلا ہو اس ملک بدر امریکی صحافی کا جس نے اس کہانی پر سے پردہ اٹھا کر اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام لوگو ں کو برہنہ کر دیا. اس صحافی نے اپنی ملک بدری کا بدلہ چکایا اور خوب چکایا.
اگر تمام تر سازشی مفروضوں سے قطع نظر ہو کر حقیقت پسندی سے جعلی ڈگریوں کے معاملے پر غور کیا جائے تو ہمیں اپنی اخلاقی اقدار اور فرض شناسی ایک مکروہ وجود کی طرح سامنےکھڑی نظر آنی چاہئے.ایک ایسا ملک جہاں جعلی دوائیوں، جعلی اسکولوں، جعلی اشیا خورد و نوش اور جعلی رہنماؤں کی بھر مار ہو وہاں پر جعلی ڈگریوں کا اتنا منظم طریقے سے تیار ہونا اور بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں.جعلی ڈگریوں کے معاملے میں ہمارے لئے ایک نہیں کئی سبق پنہا ہیں.
سب سے پہلے تو یہ کہ منہ زبانی آپ خواہ کتنا ہی پارسائی کا دعوی کیوں نہ کریں لیکن بہر کیف محتاط رہنا چاہئے خاص طور پر اس وقت جب آپ میڈیا سے وابستہ ہوں اور لاکھوں لوگ آپ کی بات سنتے ہوں.جب غیر معمولی نوازشات کی بارش ہو رہی ہو تو عقلمندی کبوتر کی طرح آنکھ بند کر لینے میں نہیں بلکہ دل و دماغ حاضر رکھنے میں ہے.یہ دلچسپ روایت بھی اس معاملے کے توسط سے دیکھنے میں آئی کے ایک طرف لوگوں نے اخلاقیات کے نام پرمشکلات کے شکار ٹی وی چینل سے علیحدگی اختیار کی اور دوسری جانب اخلاقیات کے ہی نام پر کچھ لوگو ں نےوہاں پر ٹھہرنا زیادہ مناسب سمجھا اور تیسری طرف کچھ حضرا ت نے اس وقت میں اسی ٹی وی چینل کو ببانگ دھل اپنانے میں ہی اپنی اعلی ااخلاقی روایات کی پاس داری سمجھا.
اس سارے معاملے میں دوسرا سبق ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ہے.اگر یہ تمام مستعدی اور پھرتی اپنے وقت پر دکھائی جاتی تو یقیناً اس میں ادارے کی بھی عزت ہوتی اور ملک بھی بدنامی سے بچ جاتا.ابّ چاہے ایف بی آئی کے ساتھ مل کر تحقیق کریں یا پھر انٹر پول کے ساتھ سچ تو یہ ہے کے ایف آئی اے کو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ کا وقت پر پتا نہ چلنا بھی غفلت کے زمرے میں ہی آتا ہے.
تیسرا سبق ہم عوام الناس کے لئے ہے . یقیناً پیسے کی چکا چوند آنکھوں کوخیرہ کرنے کا سبب بنتی ہے لیکن جس طرح ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ہر بڑی آمدنی ضروری نہیں کے حلال یا جائز ذریعے سے آ رہی ہو.خواہ اپنی نوکری کامعاملہ ہو یا بچوں کے روز گار کا صرف تنخواہ کو نوکری حاصل کرنے کا معیار بنانا عقلمندی نہیں.
اس سارے معاملے میں ایک سوال جو ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کو دینے والے تو جیل کے اندر ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کے کئی جعلی ڈگریاں لینے والے طاقت کے ایوانوں کے اندر ہیں.
جرم کتنی ہی مہارت سے کیوں نہ کیا جائے ایک نہ ایک دن اس کو آشکار ہونا ہی پڑتا ہے اور پھر کوئی ارب پتی کاروباری ہو یا کروڑ پتی ماڈل،
اس کا جرم یک لخت بولتا چلا جاتا ہے اور بڑے لوگوں کے رچائے اس سارے کھیل میں نقصان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی آنکھوں میں خواب سجاے ایک ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جہاں دولت کی شہنائیوں میں ضمیر کی آواز سننےکا دل ہی نہیں چاہتا.پھر اچانک جب چار دن کی چاندنی ختم ہو کراندھیری رات شروع ہوتی تو کچھ سجھائی نہیں دیتا.
ایسے میں صرف جرم بولتا ہے اور باقی سب سنتے ہے کچھ حیرت سے اور کچھ پچھتاوے سے.

تعارف : موصوف اچھے بھلے کمپیوٹر انجنیئر تھے پھر یکدم جانے کیا سوجھی کے لکھنا شروع کر دیا اور وہ بھی اردو میں . اب کوئی اور پڑھے یا نہ پڑھے یہ خود اپنی تحریریں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں اور ان کا فرمانا ہے پڑھتا جا- شرماتا جا. رابطہ کرنا ہو یا نہ کرنا ہو ای میل یہی ہے:

توجہ  کا  نذرانہ

Screenshot 2015-05-30 20.41.56

Originally appeared on Saach.tv  on 25 May 2015

ایک عذاب ہے  کے ٹلتا  ہی نہیں ایک آزمائش ہے کہ ڈھلتی نہیں

 سر کو دھوپ سے  بچاتے ہیں تو  راہ کے کانٹے پاؤں میں  چبھنے لگتے ہیں

 نہ جان محفوظ ہے نہ   عزت ،

 کب کوئی  بھولی بھٹکی گولی  آے اور اچھے بھلے آدمی کوایک  گمنام  لاش میں بدل دے کوئی پتا نہیں،

اخبار ہو یا  ٹی وی  ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہے،

کسی کو مہنگائی کی فکر ہے اور کوئی آنے والے بجٹ  کی راہ تک رہا ہے کے شائد کچھ بات بن جائے،

 قتل و  غارت گری کی  ایسی ایسی دل خراش خبریں ہیں کے روح کانپ جاتی ہے،

پشاور میں سو سے زیادہ بچو ں کو یوں ذبح کر دیا جیسے انسانوں کے نہیں موزی جانوروں کے بچے تھے،

نہتی سبین محمود  ایسے سفاکی سے مار دی  گئی کہ گویا کوئی بکری تھی اور    چالیس   اسماعیلی کلمہ گو  یوںمسل دیے گئے کہ  شائد   مچھر تھے.

ہمیں کیا  غرض کے امن کس چڑیا کا نام ہے اور تہذیب اور شرافت کس کھیت کی مولی ہیں.

 بے حسی کی یہ حالت ہے کے پانچ دس  بندوں کے مرنے کی خبر تو خبر ہے ہی نہیں، کوئی  پچاس سو گھر اجاڑیں جائیں تو  پیشانی پر بل نمودار ہوتے ہیں،

حرام خوری کی ایسی لت پڑی ہے کے اب   گدھوں کو بھی نہیں چھوڑا ،پہلے ان مظلوموں کی کھال  اتارو اور پھرٹکڑے ٹکڑے کر کے بازاروں میں گوشت بیچ دو. پیٹ کا جہنم جو بھرنا ہے حرام حلال سے کیا فرق پڑتا  ہے.

 اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہےکہ خود تو جاہل  مطلق تھے ہی ابّ اپنی  جہالت جعلی ڈگریوں کی صورت میں باہر بھی بیچنا شروع کر دی.

  کس کس کو   رو ےکوئی، دین کے  ٹھیکداروں کا  یہ حال ہے کے کسی اک جگہ پر  اکھٹے  ہو کرنماز بھی  نہیں  پڑھ سکتے اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کرنی ہو تو   بولتے بولتے   منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے،

 دوری طرف لبرل فاشسٹوں کا یہ حال ہے کے کسی کے مرنے پر    فاتحہ   کا خیال آے نہ آے   موم بتیاں جلا کر اپنی کور چشمی کا  اندیھرا  ضرور دور کرتے ہیں.

سیاست دانوں کو تو رہنے ہی  دیجئے کے سفید  کاغذ کو کالا کرنے سے کیا فائدہ

ذرا ان نام نہاد میڈیا والوں کا حال دیکھیے جو  ریٹنگ کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل گئے  ہیں کہ جیسے آسمان کو ہی چیر ڈالیں   گے.   بچپن  میں ایک  مداری  ڈگڈگی لے کرگلی میں آیا کرتا تھا اور بندر کو ناچتا دیکھ کر انجانی سی  خوشی ہوتی تھی.اب اسی سے ملتی جلتی کفیت    ٹی وی پر ٹاک شو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے.

لیکن اس سب میں قصور نہ تو حکومت کا ہے اور نہ سیاست دانو ں کا.غلطی نہ میڈیا کی ہے اور نہ بیورو  کریسی کی یہ بیڑا غرق اس عوام کا  ہوا ہے.

    بجلی چوری، ملاوٹ، رشوت، سفارش، جھوٹ، دھوکہ،گندگی میں لتھڑے ہوۓ لوگوں کے ساتھ یہ سب ہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے.

اپنے گھر کے سامنے کوڑا پھنکنے والا اگر مہنگائی کا رونا روتا ہے تو ٹھیک ہے    دھاریں مار مار کر رونے دو،

 اگر بجلی چوری کرنے والے کو  پٹرول نہیں ملتا تو بہت اچھا ہے،

اگر دفتر میں  رشوت دینے والے کو پولیس والے کسی اور وجہ سے تنگ کرتے ہیں تو اور بھی اچھا ہے. دنیا مکافات عمل ہے اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو

  What goes around , comes around

مگر مسلہ یہ ہے کے  ان دو نمبر جوگھاٹیوں، مسخروں، اور چوروں کی    تعداد بہت کم ہے اور باقی لوگ ان کے ہاتھوں ذہنی طور  پر یرغمال ہیں.  اس سب کا  حل کیا ہے

 بڑا سیدھا  اور آسان  حل ہے،  اپنے اآپ کو ٹھیک کیجئے اور ان کو ان کے حال پر  چھوڑ دیں.

اگر کوئی    مولوی نفرت کا   پرچار کرتا ہے تو مسجد تبدیل کر لیجئے  بلکے اپنے ساتھ دو چار اور کو بھی ملا لیجئے، اگر کوئی  ہمسایہ گندگی  پھیلاتا ہے تو اس کا  بائیکاٹ کر دیجئے اور اگر کوئی رشوت  خور آپ کا دوست  نکل اے تو  اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیجئے.

تنہائی، rejection، نظر انداز کر دینا بہت بڑی سزا ہے اور کوئی بھی سیاستدان، صحافی، مولوی،لبرل ، جو اپنے   تیئں بہت بڑا ہو وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا کے اسے ignore کر دیا جائے.

 جہالت، ظلم، غرور، جرم، دولت،رتبہ ، اپنے ساتھ انا اور خود پسندگی کے بہت بڑے بڑے بت  لاتی   ہے اور  ان بتوں کو توجہ کا نذرانہ نہ ملے تو یہ اپنے  بھاری بھرکم وجود کے ساتھ زمین پر آن گرتے ہیں.

6 Golian, 7 ratain aur 8 Ghantay!

Screenshot 2015-05-30 20.41.56

Originally appeared n Saach.tv  on 5 May 2014.

2.Hamid Mir-Saach Tv